ہمیں سفینۂ ہستی کا رہنما نہ ملا

Nabiul Hasan Shamim

ہمیں سفینۂ ہستی کا رہنما نہ ملا

خدا کو ساتھ لیا کوئی ناخدا نہ ملا

سکون قلب ملا بے نیازیاں پائیں

اٹھائے ہاتھ جو تیری طرف تو کیا نہ ملا

کسی کی شرکت اغیار کب گوارا تھی

خدا کا شکر کوئی درد آشنا نہ ملا

تڑپ تڑپ کے ترے بسملوں نے مقتل میں

بڑھائے ہاتھ مگر دامن قضا نہ ملا

ملی تھی آنکھ تو پھر تاب دید بھی ملتی

تجلیوں کے تماشہ میں کچھ مزا نہ ملا

تھا اضطراب میں وہ لطف زندگی مضمر

پھر اس کے بعد کسی بات میں مزا نہ ملا

تمہاری شوخیٔ تقریر کا تو کیا کہنا

جواب صاف کبھی میری بات کا نہ ملا

نگاہ شرم سے نیچی رہی پشیماں کی

وہ بے وفا جو ملا بھی تو بے وفا نہ ملا

شریک حال اب احباب تک نہیں ہوتے

شمیمؔ ہم کو بھی قسمت سے کیا زمانہ ملا