زمیں سے دور رہے آسماں سے دور رہے

Ehsas Muradabadi

زمیں سے دور رہے آسماں سے دور رہے

جو تم تھے پاس تو سارے جہاں سے دور رہے

جو اشک غم مژۂ خوں فشاں سے دور رہے

فسانہ بن گئے لفظ و بیاں سے دور رہے

وہ کیا بتائیں بہاروں کی حشر سامانی

جو طائران قفس گلستاں سے دور رہے

ستم ظریفیٔ فطرت وہ میر منزل ہیں

وہی جو گرد رہ کارواں سے دور رہے

گھٹا سکا نہ زمانہ دلوں کی قربت کو

تمہارے پاس رہے آستاں سے دور رہے

وہ دور اصل میں جان غزل سرائی تھا

وہ دور جس میں کہ ہم آشیاں سے دور رہے

نظر سے دوری کا احساسؔ اتنا غم تو نہ تھا

ملال یہ ہے دل دوستاں سے دور رہے