حدیث شوق کہیں یا کریں حیات کی بات

Faiz Tabassum Tonsvi

حدیث شوق کہیں یا کریں حیات کی بات

ہر ایک بات تری چشم التفات کی بات

خزاں کا ذکر بھلا موسم بہار میں کیا

طلوع صبح درخشاں میں کیسی رات کی بات

حدیث درد و الم کو اگر الگ کر لیں

تو کس زباں سے کریں کرب کائنات کی بات

بہار مے کدہ و ساقی و شراب و شباب

کوئی سنے تو کہیں دل کے واردات کی بات

غم حیات کا درماں نہ کر سکے لیکن

بہت ہی غور سے سنتے رہے حیات کی بات

رہ طلب میں نشیب و فراز منزل کی

انہیں خبر جو سمجھتے ہیں حادثات کی بات

میں اپنے ہوش بھی قائم نہ رکھ سکا جب فیضؔ

وہ ایک رات کا قصہ ہے ایک رات کی بات