کبھی ہمارے لئے تیغ بے نیام کرو

Habab Hashmi

کبھی ہمارے لئے تیغ بے نیام کرو

جو داستاں ہے تمہاری اسے تمام کرو

خلوص اور محبت سے نیک کام کرو

یہ مے کدہ ہے سبھی کو شریک جام کرو

جو میکدے سے نکالے گئے تو کیا ہوگا

میں محتسب ہوں یہاں میرا احترام کرو

تمہارے قرب سے دل کو سکون ملتا ہے

مرے قریب ہی بیٹھو نہ کچھ کلام کرو

وہ ایک شام کہ جس پر نثار صبح ازل

وہ ایک شام کبھی تم ہمارے نام کرو

کہاں نجات کی صورت ہے قید ہستی سے

کسی طرح اسی زنداں میں صبح و شام کرو

حبابؔ ہستئ موہوم کا بھروسہ کیا

مسافروں کی طرح بس یہاں قیام کرو