گلہ ہے اپنے مقدر کی بے حسی سے ہمیں
Naeem Sabaگلہ ہے اپنے مقدر کی بے حسی سے ہمیں
اور اس سے بڑھ کے شکایت ہے زندگی سے ہمیں
کبھی نگار لب شعلہ وش کا ذکر چلا
کبھی حصار غم جاں ملا کسی سے ہمیں
کبھی تھا قرب میں اک اضطراب کا عالم
کبھی قرار ملا تیری بے رخی سے ہمیں
کبھی ملال ہوا التفات پیہم سے
کبھی خوشی تھی بہت ترک دوستی سے ہمیں
کبھی گماں کہ یہ دنیا ہے اک فریب نظر
یقین بھی ہے خدا کے وجود ہی سے ہمیں
حیات جہد مسلسل میں کیوں ہے سرگرداں
ذرا پتا تو چلے علم و آگہی سے ہمیں
اگرچہ دل کو ملی تھی نوید صبح جمال
نجات مل نہ سکی شب کی تیرگی سے ہمیں
کھڑے ہیں دشت بلا خیز میں برہنہ پا
ملا ہے اذن سفر جذبۂ خودی سے ہمیں
صباؔ یہ کون سی منزل ہے دشت امکاں میں
نہ آشنا سے غرض ہے نہ اجنبی سے ہمیں