Poetry
Ramal Musamman Makhbun Mahzuf Maqtu'
رمل مثمن مخبون محذوف مقطوع- زندگی کرنے کے حیلے نہ بہانے آئےہم تو دنیا میں فقط خاک اڑانے آئےZafar Mehdi
- تیری ابرو پہ صنم کیا ہی یہ خال اچھا ہےایسے کعبہ کے لئے یہ ہی بلال اچھا ہےاحمد شاہ خاں شبنم
- کس جگہ جلوہ نہیں اے مہ تاباں تیراپا ہی جاتا ہے تجھے ہر کہیں خواہاں تیرااحمد شاہ خاں شبنم
- اس قدر محو تصور ہوں ستم گر تیرامجھ کو غربت میں نظر آنے لگا گھر تیرافروغ حیدرآبادی
- کبھی صورت جو مجھے آ کے دکھا جاتے ہودن مری زیست کے کچھ اور بڑھا جاتے ہوغلام بھیک نیرنگ
- جب بھی زلفوں کو ترے رخ پہ بکھرتے دیکھاہو کے شرمندہ گھٹاؤں کو گزرتے دیکھاJalal Aarif
- بات بڑھ جانے کے آثار سے ڈر لگتا ہےآج کل گرمئ گفتار سے ڈر لگتا ہےParmod Lal Yakta
- ان سے دل ملتے ہی فرقت کی بلا بھی آئیجان آنے بھی نہ پائی کہ قضا بھی آئیراغب بدایونی
- نا مناسب ہے خفا نالوں کو سن کر ہوناابھی آیا ہی نہیں تم کو ستم گر ہوناراغب بدایونی
- فصل گل ساتھ لیے باغ میں کیا آتی ہےبلبل نغمہ سرا رو رو بقضا آتی ہےشیخ علی بخش بیمار
- کون کہتا ہے نسیم سحری آتی ہےنکہت گل میں بسی ایک پری آتی ہےبشیر الدین احمد دہلوی
- دل سے اک آگ کی دیوار ابھرتی جائےزینہ زینہ شب تنہائی اترتی جائےChandra Parkash Shad
- دوستی حسن و محبت میں مگر ہوتی ہےزندگی خار کی پھولوں میں بسر ہوتی ہےGham Bijnori
- کچھ غم زیست کے آلام ابھی باقی ہیںزندگی تیرے لئے کام ابھی باقی ہیںHabeeb Ahmad Anjum Datiavi
- محو حیرت ہوں کہ آخر یہ تماشہ کیا ہےصبح خود پوچھ رہی ہے کہ اجالا کیا ہےHabeeb Ahmad Anjum Datiavi
- وہ یہ کہتے ہیں زمانے کی تمنا میں ہوںکیا کوئی اور بھی ایسا ہے کہ جیسا میں ہوںہجر ناظم علی خان
- اس کے کھلتے ہی ہر اک سمت اجالا ہوگایہ تبسم ہے اسے درد نے پالا ہوگاLokesh Kumar Singh
- یہ تمنا ہے کہ میں حرف وفا ہو جاؤںمیری باتیں رہیں بے شک میں فنا ہو جاؤںLokesh Kumar Singh
- پل خوشی کے تو کبھی آنکھ میں پانی دے گاوقت ہر روز نئی ایک کہانی دے گاMadhu Madhuman
- پیرہن جسم پہ اور منہ میں نوالا ہوتاکاش ہر شخص کے آنگن میں اجالا ہوتاMadhu Madhuman
- جب سے دیکھا ہے بنا گوش قمر میں تنکاپھانس کی طرح کھٹکتا ہے جگر میں تنکامیاں داد خاں سیاح
- قیس جنگل میں اکیلا ہے مجھے جانے دوخوب گزرے گی جو مل بیٹھیں گے دیوانے دومیاں داد خاں سیاح
- سوز دل سوز جگر سوز الم پایا ہےجو بھی پایا ہے ترے عشق میں کم پایا ہےPaikar Jafari
- نہ تو میں حور کا مفتوں نہ پری کا عاشقخاک کے پتلے کا ہے خاک کا پتلا عاشقپیر شیر محمد عاجز
- دل کے آئینے میں نت جلوہ کناں رہتا ہےہم نے دیکھا ہے تو اے شوخ جہاں رہتا ہےشیر محمد خاں ایمان
- ٹوٹے آئینے کو کیا گھر میں سجانا اچھاروح کے گھاؤ کو دنیا سے چھپانا اچھاTabassum Anwar
- فخر سمجھا در دل دار پہ مر جانے کوکیسے دانائی یہ سوجھی ترے دیوانے کوابومحمد سید حسین سیفی
- غم کے ہاتھوں مرے دل پر جو سماں گزرا ہےحادثہ ایسا زمانے میں کہاں گزرا ہےعبد المجید سالک
- تیری اک بات پہ یوں دل سے ترانے نکلےجیسے امید کے جگنو کے ٹھکانے نکلےChhabi Saksena Sahai Saba
- آج یوں درد ترا دل کے افق پر چمکاجیسے دو پل کے لیے صبح کا اختر چمکاHafiz Ludhiyanvi
- دیکھ کر پورے تماشے کو ہی گھر جائیں گےتری دنیا میں چند اک روز ٹھہر جائیں گےMadhav Noor
- جس کا جی چاہے فقیروں کی دعا لے جائےکل ہمیں جانے کہاں وقت اٹھا لے جائےRaazdan Raaz
- خواب آنکھوں میں سجانا بھی ضروری ٹھہرازندہ رہنے کا بہانہ بھی ضروری ٹھہراSabiha Khan
- محفل یار میں اغیار رہا کرتے ہیںایک ہم ہیں کہ جدائی میں جلا کرتے ہیںTabeeb Arvi
- جو بھی حق پر ہو وہی دار و رسن تک پہنچےآدمی آج کا یوں رسم کہن تک پہنچےTahira Jabeen
- چند مخصوص عناصر سے چمن بنتا ہےکتنی ترکیب سے پھولوں سا بدن بنتا ہےZafar Adeem
- میں تو شاعر ہوںبس ترے حسن کو احساس بنا رکھا ہےZafar Adeem
- جان دے دیں گے کرشموں پہ قضا سے پہلےمر ہی جائیں گے ترے ناز و ادا سے پہلےعزیز الرحمٰن عزیز پانی پتی
- مجھ کو معلوم نہ تھا ان سے محبت ہوگیدرد پر درد مصیبت پہ مصیبت ہوگیعزیز الرحمٰن عزیز پانی پتی
- ظلمت دشت عدم میں بھی اگر جاؤں گالے کے ہمراہ مہ داغ جگر جاؤں گااثر صہبائی
- درد اک شمع تفکر ہے اگر سمجھو توفہم انساں کا تبحر ہے اگر سمجھو توDawood Kashmiri
- ایسی تحریر جو آنسو کی جھڑی ثابت ہوپھر توقع کہ محبت بھی کڑی ثابت ہوGhazal Ansari
- بپھرے دریا کی روانی سے نکل آئے ہیںہم بنا بھیگے ہی پانی سے نکل آئے ہیںGhazal Ansari
- جسم کے خول میں اک شہر انا رکھا ہےنام جیون کا تبھی ہم نے سزا رکھا ہےIbn-e-Ummeed
- زندہ رہنے کا بھرم آ کے کہاں پر ٹوٹااک ستارہ سا مری شہ رگ جاں پر ٹوٹاKaleem Haider Sharar
- کوئی رشتہ ترے پیمان سے جوڑا جائےاب مرے ہجر کو عنوان سے جوڑا جائےNaeem Naaz
- کس میں خوبی ہے جلانے میں کہ جل جانے ہیںشمع میں سوز زیادہ ہے کہ پروانے میںRaj Bahadur Saxena Auj
- آج گزرے ہوئے لمحوں کو پکارا جائےدل کو پھر خون تمنا سے سنوارا جائےSaba Jayasi
- اور کس طرح اسے کوئی قبا دی جائےایک تصویر ہی پتھر پہ بنا دی جائےSaba Jayasi
- چشم و دل دونوں ہوئے آپ کی منزل جاناںراہ میں اب نہ رہی کوئی بھی مشکل جاناںSabiha Nasreen