دیکھ کر پورے تماشے کو ہی گھر جائیں گے
Madhav Noorدیکھ کر پورے تماشے کو ہی گھر جائیں گے
تری دنیا میں چند اک روز ٹھہر جائیں گے
سارے رستے تری جانب ہی لئے جاتے ہیں
یہ نہ سوچا کہ مرے پاؤں کدھر جائیں گے
زندگی ہم ترے کاندھوں پہ کوئی بوجھ نہیں
ہم بس اک موج ہوا بن کے گزر جائیں گے
کب تلک قید میں رہتی مرے اندر کی تپش
یہ شرر آج ہواؤں میں بکھر جائیں گے
کوئی زندان ہمیں روک نہیں پائے گا
ہم مچا کر ترے خیمے میں غدر جائیں گے