جب بھی زلفوں کو ترے رخ پہ بکھرتے دیکھا
Jalal Aarifجب بھی زلفوں کو ترے رخ پہ بکھرتے دیکھا
ہو کے شرمندہ گھٹاؤں کو گزرتے دیکھا
دل سے چپ چاپ تجھے جب بھی گزرتے دیکھا
یاد ماضی کا ہر اک نقش ابھرتے دیکھا
کتنے خوابوں کو شب و روز بکھرتے دیکھا
پھر بھی اک پل نہ زمانے کو ٹھہرتے دیکھا
بات کچھ ان کی جوانی پہ ہی موقوف نہیں
چڑھتے دریا کو بھی اک روز اترتے دیکھا
آئی وہ روشنی حالات کے بازاروں میں
اپنے سائے سے بھی ہر شخص کو ڈرتے دیکھا
کونپلیں پھوٹی ہیں شاخوں پہ نئے موسم کی
جس گھڑی جور خزاں حد سے گزرتے دیکھا
بحر الفت میں تصور ہی کہاں ساحل کا
ڈوبنے والے کو ہی پار اترتے دیکھا
راحتیں موت ہیں انسان کے حق میں عارفؔ
دل کی فطرت کو مصائب میں سنورتے دیکھا