دل سے اک آگ کی دیوار ابھرتی جائے

Chandra Parkash Shad

دل سے اک آگ کی دیوار ابھرتی جائے

زینہ زینہ شب تنہائی اترتی جائے

تم سے ملنے کا جو برسوں میں کبھی آئے خیال

ہر طرف فاصلوں کی ریت بکھرتی جائے

وقت کی چال کو ہم رو کے رہیں کمرے میں

اور ادھر رات اندھا دھند گزرتی جائے

تپتا صحرا ہے ہر اک شہر اور امید سکوں

ایک بدلی ہے جو اوپر سے گزرتی جائے

میں تو اوقات کے پھیلاؤ میں بڑھتا جاؤں

اور جو اک شے مرے اندر ہے وہ مرتی جائے

جانے کیا بھوت چھپے بیٹھے ہیں اس آنگن میں

رات جائے تو وہاں کانپتی ڈرتی جائے

وہ نظر پھول کھلاتی چلے پہلو پہلو

بن کے کانٹا سا دلوں میں بھی اترتی جائے