میں تو شاعر ہوں

Zafar Adeem

میں تو شاعر ہوں

بس ترے حسن کو احساس بنا رکھا ہے

ورنہ مجھ میں مرے کردار میں کیا رکھا ہے

روئے ناہید کہوں زہرہ جبیں کہہ ڈالوں

اپنے نغمات سے نظموں سے حسیں کہہ ڈالوں

بر زمیں پیکر فردوس بریں کہہ ڈالوں

حرم دل میں صنم خانہ سجا رکھا ہے

تجھ پہ خوابوں کو خیالوں کو نچھاور کر دوں

تجھے شب گیر بنا دوں سحر آور کر دوں

دوش مہتاب پہ رکھ دوں سر خاور کر دوں

آگہی میں ترا پندار چھپا رکھا ہے

تجھ کو تمثیل کی تشبیہ کی عظمت بولوں

روح کی تمکنت ادراک کی نخوت بولوں

تجھ کو افسانہ کہوں تجھ کو حقیقت بولوں

اپنی دنیا کو زمانے سے جدا رکھا ہے

تجھ پہ قربان عرب اور عجم صدقے کروں

تجھ پہ ناقوس و اذاں دیر و حرم صدقے کروں

صبر کا واسطہ اعجاز کا دم صدقے کروں

سوز اور ساز کو سینے میں دبا رکھا ہے

تجھ کو مسلک کہوں ایمان کہوں دین کہوں

دل کہوں جان کہوں ذات کی تسکین کہوں

جو دعا تیرے لیے ہو اسے آمین کہوں

فکر کو نامۂ اعمال پہ لا رکھا ہے

ورنہ مجھ میں مرے کردار میں کیا رکھا ہے

بس ترے حسن کو احساس بنا رکھا ہے