کس جگہ جلوہ نہیں اے مہ تاباں تیرا
احمد شاہ خاں شبنمکس جگہ جلوہ نہیں اے مہ تاباں تیرا
پا ہی جاتا ہے تجھے ہر کہیں خواہاں تیرا
کون دیکھے تجھے اس ماہ جبیں کے ہوتے
منہ ادھر کو رہے اے مہر درخشاں تیرا
تیرے سائے کو بھی تجھ تک نہ پھٹکنے دیتا
یار ہوتا جو یہ ناچیز نگہباں تیرا
کسی آشفتہ کا کیا صبر پڑا ہے اس پر
کیوں پریشان ہے گیسوئے پریشاں تیرا
لے کے دل مجھ سے کوئی اپنا نہ کام اس سے لیا
کاش آئینہ ہی ہوتا دل حیراں تیرا
آج ہے وصل کی شب جا بھی ترا منہ کالا
پھر نہ دکھلائے خدا منہ شب ہجراں تیرا
جان سے تنگ ہوں پر جان سے جاؤں کیوں کر
مجھ کو مرنے بھی تو دیتا نہیں ارماں تیرا
کون جائے در دل دار سے اٹھ کر واعظ
خیر اچھا ہی سہی روضۂ رضواں تیرا
شعر اس میں نہیں یہ پھول کھلے ہیں شبنمؔ
حور کے ہاتھ کا گلدستہ ہے دیواں تیرا