ٹوٹے آئینے کو کیا گھر میں سجانا اچھا

Tabassum Anwar

ٹوٹے آئینے کو کیا گھر میں سجانا اچھا

روح کے گھاؤ کو دنیا سے چھپانا اچھا

ان سے کہہ دو کہ ہمیں اب نہ ستانا اچھا

جو تعلق سزا بن جائے مٹانا اچھا

فیصلہ دل سے کرو ساتھ جو چلنا ہے مرے

سر کو اقرار میں بس تم نہ ہلانا اچھا

دیجئے عمر درازی کی دعائیں نہ مجھے

خار سے دامن دل جلدی چھڑانا اچھا

خاک الفت کو لیے سر پہ کیوں گلشن میں رہوں

دل میں وحشت ہو تو صحرا میں ہی جانا اچھا

رشتۂ خواب سے کب خود کو جدا کر پائی

شب گزرنے کا یہی اک ہے بہانا اچھا

تیغ گردن پہ تھی یوں شاہ کی تعریف کری

کتنا مشکل تھا برائی کو بتانا اچھا

دل بیمار کو پھر اذن سفر کیا دیتی

ایک معذور کو اب کتنا بھگانا اچھا

جب تلک پڑھنے کے قابل رہا وہ خط رکھا

جس کی تحریر مٹے اس کو جلانا اچھا

وہ تبسمؔ کو بھلا بیٹھا تمہیں کیسے خبر

مجھ کو افواہ میں بھی سچ ہی سنانا اچھا

تن مضروب لیے بزم میں مسکاتی رہی

گھر کی عزت کے لیے سب تھا دکھانا اچھا