کچھ غم زیست کے آلام ابھی باقی ہیں

Habeeb Ahmad Anjum Datiavi

کچھ غم زیست کے آلام ابھی باقی ہیں

زندگی تیرے لئے کام ابھی باقی ہیں

جن سے وابستہ ہے شہرت ترے مے خانے کی

ایسے ٹوٹے ہوئے کچھ جام ابھی باقی ہیں

شب کی تاریکی نے دنیا کی بہاریں لوٹیں

آشنائے سحر و شام ابھی باقی ہیں

ہم نے صیاد کو گلشن سے نکالا ہے مگر

چار سو پھیلے ہوئے دام ابھی باقی ہیں

خار گلشن سے نکالے گئے لیکن وہ گل

جن سے گلشن ہوا بدنام ابھی باقی ہیں

کب ادھر اٹھے گی تو اے نگہ شوق بتا

کتنے پیغام ترے نام ابھی باقی ہیں

رک گیا آ کے کہاں راہ طلب میں انجمؔ

پئے منزل ترے دو گام ابھی باقی ہیں