بات بڑھ جانے کے آثار سے ڈر لگتا ہے

Parmod Lal Yakta

بات بڑھ جانے کے آثار سے ڈر لگتا ہے

آج کل گرمئ گفتار سے ڈر لگتا ہے

ہم نے مانگی تھیں دعائیں کہ زمانہ بدلے

اب ہمیں وقت کی رفتار سے ڈر لگتا ہے

جن میں شامل نہ ہو محبوب کا منشائے نظر

ایسے جذبات کے اظہار سے ڈر لگتا ہے

جس کو دعویٰ ہو بہت اپنی خرد مندی کا

اس کے الجھے ہوئے افکار سے ڈر لگتا ہے

ایسا کچھ ہو گیا دنیائے ادب کا ماحول

ایک فن کار کو فن کار سے ڈر لگتا ہے

اگلے وقتوں کے ہیں یہ لوگ انہیں کچھ نہ کہو

زندگی چاہتے ہیں پیار سے ڈر لگتا ہے

بندگی سے وہ بہت دور نہیں ہیں یکتاؔ

ایسے منکر جنہیں انکار سے ڈر لگتا ہے