خواب آنکھوں میں سجانا بھی ضروری ٹھہرا

Sabiha Khan

خواب آنکھوں میں سجانا بھی ضروری ٹھہرا

زندہ رہنے کا بہانہ بھی ضروری ٹھہرا

اس کو احساس پذیرائی دلانے کے لئے

در و دیوار سجانا بھی ضروری ٹھہرا

جو ستم اس نے کئے اس کو جتانے کے لئے

آئنہ اس کو دکھانا بھی ضروری ٹھہرا

تیری یادیں جو پریشان کئے رکھتی ہیں

اس لئے تجھ کو بھلانا بھی ضروری ٹھہرا

محو ہو جائے مرے ذہن سے بھی اس کی شبیہ

اس کی تصویر ہٹانا بھی ضروری ٹھہرا

یہ ہے دستور محبت کہ ہمیشہ جس میں

وصل کے ساتھ بچھڑنا بھی ضروری ٹھہرا

اپنے چہرے پہ سجا لی ہے یہ بے کیف ہنسی

درد کو دل میں چھپانا بھی ضروری ٹھہرا

رسم الفت کو نبھانا ہے صبیحہؔ یوں بھی

روٹھ جائے تو منانا بھی ضروری ٹھہرا