محو حیرت ہوں کہ آخر یہ تماشہ کیا ہے
Habeeb Ahmad Anjum Datiaviمحو حیرت ہوں کہ آخر یہ تماشہ کیا ہے
صبح خود پوچھ رہی ہے کہ اجالا کیا ہے
اس بدلتی ہوئی دنیا کا بھروسہ کیا ہے
سب اسی فکر میں بیٹھے ہیں کہ ہوتا کیا ہے
بے عمل ہو تو سمجھئے کہ ہے بے سود حیات
جس کا مقصد نہ ہو وہ جینا بھی جینا کیا ہے
پوچھتا ہے یہ چراغوں میں لہو جل جل کر
تلخیٔ دور بتا دے تری منشا کیا ہے
میری آنکھوں سے ذرا دل میں اتر کر دیکھو
لوگ کہتے ہیں جسے عشق وہ ہوتا کیا ہے
ہیچ ہے اس کے لئے دولت دنیا انجمؔ
کاش انسان سمجھ لے مرا رتبہ کیا ہے