اور کس طرح اسے کوئی قبا دی جائے
Saba Jayasiاور کس طرح اسے کوئی قبا دی جائے
ایک تصویر ہی پتھر پہ بنا دی جائے
تاکہ پھر کوئی نہ پرچھائیں کے پیچھے دوڑے
اپنی بستی میں چلو آگ لگا دی جائے
خوب ہے یہ مری مخصوص طبیعت کا علاج
ہر تمنا مری کانٹوں پہ سلا دی جائے
اپنی ہی ذات پہ ہوتا ہے جو سائے کا گماں
تیرگی شب کی کسی طور بڑھا دی جائے
ہم کسی طرح تو امروز کی تلخی سمجھیں
عہد رفتہ کی ہر اک بات بھلا دی جائے
آؤ دیکھیں نہ کوئی اپنا شناسا نکلے
اجنبی چہروں سے یہ گرد ہٹا دی جائے
دیکھنے سے جسے آنکھوں میں اندھیرا چھایا
کس کو اس خواب کی تعبیر بتا دی جائے
جب مقدر ہے شب و روز کی بے کیفی صباؔ
خواب کی طرح ہر اک یاد بھلا دی جائے