تیری اک بات پہ یوں دل سے ترانے نکلے

Chhabi Saksena Sahai Saba

تیری اک بات پہ یوں دل سے ترانے نکلے

جیسے امید کے جگنو کے ٹھکانے نکلے

کیا ہوا تیرا کرم جو نہ ہوا گر مجھ پہ

میری الفت کے گھروندے سے خزانے نکلے

اتنا آساں نہ تھا ان سے مرا دوری رکھنا

کس طرح عزم کو ہم اپنے نبھانے نکلے

ہم نے جانا تھا محبت کا صلہ ہوگا غم

پھر بھی کیا سوچ کے ہم عمر گنوانے نکلے

ان کے آنے کی ہو آہٹ تو مجھے لگتا ہے

میری تنہائی سرابوں سے سجانے نکلے

جب بھی احساس مسرت ہوا اک پل کو تبھی

نیند سے درد کو میرے وہ جگانے نکلے

جو نہ کہنا تھا کبھی آج وہ اشعار بنائیں

پھر یہ معذور غزل سب کو سنانے نکلے

تم سے جو ہو نہ سکا ہم بھی کہاں تھے ماہر

عشق کی راہ پہ ناکام سیانے نکلے

واسطہ اتنا ہی رہتا ہے صباؔ ان سے یہ

چشم پر نم کو ستاروں سے سجانے نکلے