آج یوں درد ترا دل کے افق پر چمکا

Hafiz Ludhiyanvi

آج یوں درد ترا دل کے افق پر چمکا

جیسے دو پل کے لیے صبح کا اختر چمکا

یوں ضیا بار رہی ہجر کی شب یاد تری

غم کا شعلہ ترے رخسار سے بڑھ کر چمکا

خاک گلشن سے نہ کوئی بھی شرارا پھوٹا

فصل گل آئی نہ کوئی بھی گل تر چمکا

اب نہیں اہل نظر اہل بصیرت کوئی

لعل سمجھے ہیں اسے جب کوئی پتھر چمکا

اک کرن چھوڑ گیا دیدہ و دل میں حافظؔ

وہ حسیں اشک کہ جو نوک مژہ پر چمکا