آج گزرے ہوئے لمحوں کو پکارا جائے

Saba Jayasi

آج گزرے ہوئے لمحوں کو پکارا جائے

دل کو پھر خون تمنا سے سنوارا جائے

میرا ہر شوق بھی ہو ان کا ہر انداز بھی ہو

دل میں اب نقش کوئی ایسا اتارا جائے

جب تھکی ماندی پڑی سوتی ہو ہر شورش غم

ہجر کی رات کو کس طرح گزارا جائے

کچھ ہو معیار خرد چاک قبا عیب سہی

چشم معصوم کا خالی نہ اشارا جائے

آبلہ پا ہے تو کیا ہے تو وہ سرگرم سفر

قافلے والو صباؔ کو تو پکارا جائے