دوستی حسن و محبت میں مگر ہوتی ہے

Gham Bijnori

دوستی حسن و محبت میں مگر ہوتی ہے

زندگی خار کی پھولوں میں بسر ہوتی ہے

ہر ادا ان کی جو منظور نظر ہوتی ہے

جان دل ہوتی ہے پیوست جگر ہوتی ہے

بات بنتی ہے تو ہو جاتی ہے دنیا حائل

بات بڑھتی ہے تو دنیا کو خبر ہوتی ہے

ضعف انوار کو تقدیر سمجھنے والے

ہر جواں رات ہی پیغام سحر ہوتی ہے

ہر کسی چشم کا آنسو ہے بنائے طوفاں

جب تری یاد بھی ہم راز سفر ہوتی ہے

تم مجھے پیار کے انداز سے دیکھا نہ کرو

دل دھڑکتا ہے تو دنیا کو خبر ہوتی ہے

سن لیا کرتا ہوں اکثر میں کہانی غمؔ کی

غم کے انداز میں جو رات بسر ہوتی ہے