زندگی کرنے کے حیلے نہ بہانے آئے
Zafar Mehdiزندگی کرنے کے حیلے نہ بہانے آئے
ہم تو دنیا میں فقط خاک اڑانے آئے
یاد ماضی میں فراموش کیا فردا کو
عرصۂ عشق میں ایسے بھی زمانے آئے
دل وہ بستی ہے اجڑ جائے تو بستی ہی نہیں
کتنے سادہ ہیں اسے پھر سے بسانے آئے
مسئلہ کوئی نہیں ایسا جو حل ہو نہ سکے
بس اسی بات پہ دنیا کو منانے آئے
وہ سیاست ہے کہ ہر روشنی تاریک ہوئی
پھر بھی ہم مشعل جاں اپنی جلانے آئے
جب بھی بازار میں خودداریاں نیلام ہوئیں
دام ان کے بھی تو ہم جیسے بڑھانے آئے
اب کے کیا تھا کہ خزاں نے بھی تو مردہ نہ کیا
موسم گل سے کہو ہم کو رلانے آئے