فخر سمجھا در دل دار پہ مر جانے کو
ابومحمد سید حسین سیفیفخر سمجھا در دل دار پہ مر جانے کو
کیسے دانائی یہ سوجھی ترے دیوانے کو
ناز برداروں پہ سب ناز ہوا کرتے ہیں
کون تکلیف دیا کرتے ہیں بیگانے کو
کیوں وسیلہ کی ضرورت ہو تری چاہت میں
کیا سکھاتا ہے محبت کوئی پروانے کو
میں تو جنت میں بھی جانے کا کبھی نام نہ لوں
جب تک آئیں گی نہ حوریں مرے لے جانے کو
اس کے وعدوں سے ہو کیا خاک تسلی سیفیؔ
دیر لگتی ہی نہیں جس کے مکر جانے کو