Poetry
Poet
Meter
- بارش اندر بھی برساتی تھیبارش باہر بھی برس گئےUrooj Jafri
- جب میگھا آتی ہےسب کو پتہ چل جاتا ہےUrooj Jafri
- جب ہم کچھ نہیں ہوتے توہم ٹھیک ہوتے ہیںUrooj Jafri
- بس اپنے آپ میں الجھا ہوا ہےاسے کہہ دو کہ شعر اچھا ہوا ہےVikas Rana
- تیرے پہلو یا درمیاں نکلےایک جاں ہے کہاں کہاں نکلےVikas Rana
- سوچنا بھی عجیب عادت ہےیہ بھی تو سوچنے کی صورت ہےVikas Rana
- کوئی لے گا نہیں بدلا ہماراہمیں کو قتل ہے کرنا ہماراVikas Rana
- اپنی تو گزری ہے اکثر اپنی ہی من مانی میںلیکن اچھے کام بھی ہم نے کر ڈالے نادانی میںVilas Pandit Musafir
- اک سمندر کے حوالے سارے خط کرتا رہاوہ ہمارے ساتھ اپنے غم غلط کرتا رہاVilas Pandit Musafir
- ایک بھی قطرہ نہ چھوڑا کیجیےدل مرا جب بھی نچوڑا کیجیےVilas Pandit Musafir
- جیون ہے پل پل کی الجھن کس کس پل کی بات کریںان لمحوں کو بھول کے ہم تم گیت غزل کی بات کریںVilas Pandit Musafir
- تحفۂ درویشز خ ش
- تضمین بر اشعار غالبز خ ش
- پیام (ز خ ش)ز خ ش
- لذت عرفاںز خ ش
- آبلہ پائی ہوئی نہ زیست میں حائل کبھیپاؤں کب میرے تھکے گر ہو گئے گھائل کبھیAakif Ghani
- دل سمندر تھا لیکن یہ تشنہ لبیمیری قسمت میں کس روز لکھی گئیAakif Ghani
- ہر کام کا وقت مقرر ہے ہر کام کو وقت پہ ہونا ہےکس بات کی آخر جلدی ہے کس بات کا پھر یہ رونا ہےAakif Ghani
- ان شوخ حسینوں کی ادا اور ہی کچھ ہےاور ان کی اداؤں میں مزا اور ہی کچھ ہےابو الکلام آزاد
- جوش وحشت میں مسلم ہو گیا اسلام عشقکوچہ گردی سے مری پورا ہوا احرام عشقابو الکلام آزاد
- کیوں اسیر گیسوئے خم دار قاتل ہو گیاہائے کیا بیٹھے بٹھائے تجھ کو اے دل ہو گیاابو الکلام آزاد
- سوال فاسق ( شکوہ )انجم لکھنوی
- جَوابِ شِکوَہ (جواب فاسیق)انجم لکھنوی
- سورج کی شفق دامن آفاق میں گم ہےنیرنگ شقی مظہر اشراق میں گم ہےانجم لکھنوی
- دل بھر آیا پھر بھی راز دل چھپانا ہی پڑاسامنے اس بد گماں کے مسکرانا ہی پڑاانجم مانپوری
- عدو تو کیا یہ فلک بھی اسے ستا نہ سکاخوشی ہنسا نہ سکی غم جسے رلا نہ سکاانجم مانپوری
- واعظ کی کڑوی باتوں کو کب دھیان میں اپنے لاتے ہیںیہ رند بلا نوش ایسے ہیں سنتے ہیں اور پی جاتے ہیںانجم مانپوری
- ان عقل کے بندوں میں آشفتہ سری کیوں ہےیہ تنگ دلی کیوں ہے یہ کم نظری کیوں ہےاسد ملتانی
- پوچھی نہ چشم تر کی نہ آہ رسا کی باتکرتے رہے وہ مجھ سے بس آب و ہوا کی باتاسد ملتانی
- تماشا ہے کہ سب آزاد قومیںبہی جاتی ہیں آزادی کی رو میںاسد ملتانی
- چٹکیاں لیتی ہے گویائی کسے آواز دوںکس کو ہے توفیق شنوائی کسے آواز دوںBalraj Hayat
- دل کے ہاتھوں خراب ہو جانازندگی کامیاب ہو جاناBalraj Hayat
- صدیوں کا کرب لمحوں کے دل میں بسا دیاپل بھر کی زندگی کو دوامی بنا دیاBalraj Hayat
- پھولوں کی خواہش میں اکثر کانٹوں کو اپناتے ہیںعادت سے مجبور ہیں اپنا دامن خود الجھاتے ہیںBalraj Kumar
- تم اس زمیں کو زمیں ہی رہنے دوسب شیاطین کو فرشتوں کو ختم کر دوBalraj Kumar
- میرے ہاتھ میںمیری ان لغزشوں کےBalraj Kumar
- تابش حسن حجاب رخ پر نور نہیںرخنہ گر ہو نگہ شوق تو کچھ دور نہیںبرق دہلوی
- دل جو صورت گر معنی کا صنم خانہ بنےآنکھ جس شے پہ پڑے جلوۂ جانانہ بنےبرق دہلوی
- ہند کے جاں باز سپاہیبرق دہلوی
- دل کو جس چیز کی حسرت ہے ہمیں جانتے ہیںوہ کوئی چاند سی صورت ہے ہمیں جانتے ہیںDanish Ejaz
- زیست تجھ بن گزار دوں گا میںخواہشوں کو بھی مار دوں گا میںDanish Ejaz
- مجرم ہوں اگر مجھ کو سزا کیوں نہیں دیتےاپنا ہوں تو پھر مجھ کو صدا کیوں نہیں دیتےDanish Ejaz
- تنہائی کا روگ نہ پالگھر سے باہر پاؤں نکالEjaaz Talib
- خود کو جب لگ گئی نظر اپنیزندگی بن گئی کھنڈر اپنیEjaaz Talib
- مدتوں کے بعد جب پہنچا وہ اپنے گاؤں میںجھریاں چہرے پہ تھیں اور آبلے تھے پاؤں میںEjaaz Talib
- خواب و تعبیر بے نشاں میں تھاایک روداد رائیگاں میں تھاEjaz Azmi
- گھن گرج میگھ خوف تنہائیبڑھ رہے تھے سبھی دشاؤں سےEjaz Azmi
- کنکریٹ جنگل میںکنکریٹ چٹانیںEjaz Azmi
- تم پتنگ بن کے ہواؤں میں تیرتی پھرواور ڈور مرے ہاتھوں کو کاٹتی رہےFaheem Jozi
- کہو پیارے کہ یہ بازار ہےمانو کہ یہ بازار ہے سچائی کا بازارFaheem Jozi