جیون ہے پل پل کی الجھن کس کس پل کی بات کریں
Vilas Pandit Musafirجیون ہے پل پل کی الجھن کس کس پل کی بات کریں
ان لمحوں کو بھول کے ہم تم گیت غزل کی بات کریں
روز ہی پینا روز پلانا روز غموں سے ٹکرانا
اک دن مے کو بھول کے آؤ گنگا جل کی بات کریں
سو برسوں کے اس جینے سے حاصل کیا ہو پائے گا
جس نے دل کو خوشیاں دی ہوں اس اک پل کی بات کریں
کیا پایا ہے بھیڑ میں کھو کر کیا پایہ تنہائی میں
آؤ یارو ان رسموں کے پھیر بدل کی بات کریں
آج وفا کی راہ مسافرؔ دھندلی دھندلی لگتی ہے
کہرہ جس نے برسایا ہے اس بادل کی بات کریں