تنہائی کا روگ نہ پال
Ejaaz Talibتنہائی کا روگ نہ پال
گھر سے باہر پاؤں نکال
جن میں ہو زہریلا پن
ایسی باتیں ہنس کر ٹال
شہر میں وحشی آئے ہیں
چل جنگل میں ڈیرا ڈال
اندر سے ہیں بکھرے بکھرے
اور باہر سے سب خوش حال
آنکھیں سب کی فکر زدہ
کیسے بیتے گا یہ سال
طالبؔ پیاس بجھے کیسے
ایک ندی اور سو گھڑیال