سورج کی شفق دامن آفاق میں گم ہے
انجم لکھنویسورج کی شفق دامن آفاق میں گم ہے
نیرنگ شقی مظہر اشراق میں گم ہے
مفہوم ازل آج کا انسان نہ سمجھا
عنوان اجل لذت تریاق میں گم ہے
گہوارہ تہذیب میں جو پل کے جواں ہو
گم اُس میں ہے اخلاق وہ اخلاق میں گم ہے
یہ سورچ کے بڑھ جائیے احساس کی حد سے
دوزخ کی تپش شعلۂ احراق میں گم ہے
کاشانہ ہستی یہ ہیں عفریت کے سائے
قرآن کی حرمت جو ابھی طاق میں میں گم ہے
انجم وہ جتاتا نہیں احسان کسی پر
کیا ضبط قوی خوبی اشفاق میں گم ہے