چٹکیاں لیتی ہے گویائی کسے آواز دوں

Balraj Hayat

چٹکیاں لیتی ہے گویائی کسے آواز دوں

کس کو ہے توفیق شنوائی کسے آواز دوں

سر میں سودا ہے نہ دل میں آرزو کس سے کہوں

جلوتیں مانگے ہے تنہائی کسے آواز دوں

اپنی نظروں میں تو میرا زعم ہستی لغو ہے

کس سے پوچھوں اپنی سچائی کسے آواز دوں

بیچ دوں گا میں ضمیر اپنا اگر تسکیں ملے

اے مسلسل روح فرسائی کے آواز دوں

میری حسرت کوئی پوچھے مجھ سے میرا حال دل

لوگ اپنے اپنے شیدائی کسے آواز دوں

آزمائش کا یہ پہلو بھی ہے کیا معلوم تھا

کامرانی کی گھڑی آئی کسے آواز دوں

کس کے نام آخر کروں حیرتؔ میں اپنی وحشتیں

منتظر ہے دشت پیمائی کسے آواز دوں