مدتوں کے بعد جب پہنچا وہ اپنے گاؤں میں

Ejaaz Talib

مدتوں کے بعد جب پہنچا وہ اپنے گاؤں میں

جھریاں چہرے پہ تھیں اور آبلے تھے پاؤں میں

اب تو شاید گر گیا ہوگا وہ پیپل کا درخت

بچپنے میں ہم ملا کرتے تھے جس کی چھاؤں میں

کون آئے گا مری دہلیز پہ برسوں کے بعد

آج ہم پھر کھو گئے کوے کے کاؤں کاؤں میں

تاکہ مجھ پہ شہر کی عریانیاں غالب نہ ہوں

اپنی آنکھیں چھوڑ آیا ہوں میں اپنے گاؤں میں

ایک سمندر آنکھ میں تھا موجزن طالبؔ مگر

عمر بھر ہم تشنہ لب بھٹکا کیے صحراؤں میں