ایک بھی قطرہ نہ چھوڑا کیجیے

Vilas Pandit Musafir

ایک بھی قطرہ نہ چھوڑا کیجیے

دل مرا جب بھی نچوڑا کیجیے

آپ ہی کے نام سے پہچان ہو

نام میرا ساتھ جوڑا کیجیے

سیدھے سیدھے چل کے کیا حاصل ہوا

زندگی مڑتی ہے موڑا کیجیے

صرف دنیا پر ہی ساری تہمتیں

خود کو بھی آخر جھنجھوڑا کیجیے

لینے والے تو سبھی کچھ لے گئے

آپ بھی احسان تھوڑا کیجیے

آپ کو یہ حق محبت میں دیا

دل ہے میرا خوب توڑا کیجیے

میں مسافرؔ ہوں مجھے چلنا ہی ہے

با ادب چھالے نہ پھوڑا کیجیے