تیرے پہلو یا درمیاں نکلے
Vikas Ranaتیرے پہلو یا درمیاں نکلے
ایک جاں ہے کہاں کہاں نکلے
اس طرح سے کبھی سمیٹ مجھے
میرے کھلنے پر اک جہاں نکلے
سوچتا ہوں یوں نہ ہو اک دن
یہ زمیں کوئی آسماں نکلے
آ تری سانس سانس پی لوں میں
جسم سے روح کا دھواں نکلے
تیرے پہلو یا درمیاں نکلے
ایک جاں ہے کہاں کہاں نکلے
اس طرح سے کبھی سمیٹ مجھے
میرے کھلنے پر اک جہاں نکلے
سوچتا ہوں یوں نہ ہو اک دن
یہ زمیں کوئی آسماں نکلے
آ تری سانس سانس پی لوں میں
جسم سے روح کا دھواں نکلے