دل کے ہاتھوں خراب ہو جانا
Balraj Hayatدل کے ہاتھوں خراب ہو جانا
زندگی کامیاب ہو جانا
مجھ سے کب ایسے معجزے ہوں گے
خود ہی عزت مآب ہو جانا
آج گل بن لے زخم تنہائی
پھر کبھی آفتاب ہو جانا
میں نے تسکین کرب مانگی ہے
اے دعا مستجاب ہو جانا
جب کسی امتحاں سے خوف لگے
تم مرے ہم رکاب ہو جانا
خواب کو سچ میں ڈھالنے کی لگن
دیکھیو خود نہ خواب ہو جانا