پھولوں کی خواہش میں اکثر کانٹوں کو اپناتے ہیں
Balraj Kumarپھولوں کی خواہش میں اکثر کانٹوں کو اپناتے ہیں
عادت سے مجبور ہیں اپنا دامن خود الجھاتے ہیں
ایک نظر ان کی خاطر بھی ایک نظر ان کی جانب
موسم گل میں جو دیوانے ماتمی نغمے گاتے ہیں
سیپ کے باہر پانی کیا مفلس کا میلا آنچل کیا
سونے پر ٹپکے آنسو بھی تاج محل بن جاتے ہیں
پچھلے ساون میں پل پل جلتے رہنے کا حکم ملا
اب کے تیرے دیس کے بادل کیا سندیسہ لاتے ہیں
درد کے صحراؤں کے آگے پیار کے میٹھے چشمے ہیں
خوابوں کے سوداگر جانے کیا کیا خواب دکھاتے ہیں
لوگ یہ کیسے ہیں جو ہم سے دن میں آنکھ چراتے ہیں
شام ڈھلے تو لے کر ساغر پینے پلانے آتے ہیں