تم پتنگ بن کے ہواؤں میں تیرتی پھرو

Faheem Jozi

تم پتنگ بن کے ہواؤں میں تیرتی پھرو

اور ڈور مرے ہاتھوں کو کاٹتی رہے

پر پر زخمی اور آنکھیں تیرے رنگوں میں الجھی رہیں

لہو بہتا رہے

اور آس تجھے چاہنے کی

آسمان بن کے ترے چاروں طرف بکھر جائے

شام اترے تو تیری آنکھوں کا رنگ

مجھے اپنی پناہ میں سمیٹ لے

اور تیری راہوں پر میرا اک اک لمس بکھیر دے

تیری راہوں کا کچھ پتا تو ہوگا

اور تیرے وقت کی کوئی منزل تو ہوگی جان

ایک میں تنہا ایک وہ تنہا

ایک وہ جس سے میں تمہاری کتھا کہتا ہوں

ایک وہ جو کسی کی کتھا سے مجھ میں زندہ

اور تم تنہا

لو یہ بھی کوئی بات ہوئی تم نے کہا

ہاں یہ باتیں اور ان باتوں کے نکیلے کنگرے

جب تیری جان میں اٹکتے ہیں

تو تمہارے ناخنوں میں ایسی شفق دہکتی ہے

جو سن نہ سکے کچھ کہہ نہ سکے

تب میری امنگوں پر اک آگ لہراتی ہے

اور میں تجھے ان خود رو جنگلی پھولوں سے تشبیہ دیتا ہوں

جو صرف اپنی وحشت میں زندہ رہتے ہیں

زخم کھل گئے ہیں جاناں

اور ہوائیں چاروں طرف سے امڈی پڑی ہیں