کوئی لے گا نہیں بدلا ہمارا

Vikas Rana

کوئی لے گا نہیں بدلا ہمارا

ہمیں کو قتل ہے کرنا ہمارا

نچھاور جان بھی ہے اس پہ کرنی

ابھی طے بھی نہیں مرنا ہمارا

ہمارے ہونٹ کے صحرا تمہارے

تمہاری آنکھ کا دریا ہمارا

ابھی اک شعر کہنا رہ گیا ہے

ابھی نکلا نہیں کانٹا ہمارا