کہو پیارے کہ یہ بازار ہے
Faheem Joziکہو پیارے کہ یہ بازار ہے
مانو کہ یہ بازار ہے سچائی کا بازار
تم سچ سچ بتاؤ دام
چھب دکھلاؤ
گاہک کی یہی مرضی ہے
تم مرضی کا سودا ہو ادھر گھومو جھکو کچھ اور جھک جاؤ
کہ جھکنے ہی سے جھکتی ہے جسے تقدیر کہتی ہے یہ دنیا
جس کو تم دنیا سمجھتے ہو
سبھی شہروں میں یہ بازار ہے
لیکن دریچہ دل کا کھلتا ہے
تو اس بازار کا منظر جھلکتا ہے
میں جھکتا ہوں میں جھکتا ہوں
کوئی مجھ سے یہ کہتا ہے کہ ہاں کچھ اور جھک جاؤ
تقاضا ہے تقاضوں کی یہ دنیا کتنی سچی ہے
بڑی پیاری ہے یہ دنیا
دریچہ دل کا کھل جائے تو کھل جاتی ہے زپ پاکٹ کی دوبارہ
دریچہ دل کا کھلتا ہے
مگر دل کی کلی چھوڑو یہ باتیں
ہاں یہ باتیں جھوٹ ہیں
سچی ہے یہ دنیا
ذرا اک چھب دکھاؤ گھوم جاؤ گھومتے جاؤ
کہ دنیا گھومتی ہے گول ہے پیارے
سبھی گولائیاں اپنے کناروں سے ڈھلک جاتی ہیں
جب بازار سونا ہو
اتر جاتا ہے غازہ
اور دل کہتا ہے
رونے دو
کچھ اتنے زور سے برسو کہ دھل جائے یہ گلشن خواہشوں کا
دل کی مٹی سے اگیں کلیاں گلابوں کی
دریچہ دل کا کھل جائے تو گلیوں میں مہکتے خواب
خوابوں سے ملیں
دل دل سے مل جائے