اپنی تو گزری ہے اکثر اپنی ہی من مانی میں

Vilas Pandit Musafir

اپنی تو گزری ہے اکثر اپنی ہی من مانی میں

لیکن اچھے کام بھی ہم نے کر ڈالے نادانی میں

ہم ٹھہرے آوارہ پنچھی سیر گگن کی کرتے ہیں

جان کے ہم کو کیا کرنا ہے کون ہے کتنے پانی میں

روح کو اس کی راہ کا پتھر بننا ہی منظور نہ تھا

بازی ہم نے ہی جیتی ہے اپنی اس قربانی میں

یار نئی کچھ بات اگر ہو ہم بھی سجدہ کر لیں گے

اکثر ایک ہی بات سنی ہے سب سنتوں کی بانی میں

محنت کر کے ہم تو آخر بھوکے بھی سو جائیں گے

یا مولا تو برکت رکھنا بچوں کی گڑ دھانی میں

موقعے تو ہم تک بھی آئے خوب کما کھا لیتے ہم

لیکن ایک ضمیر تھا بھیتر اللہ کی نگرانی میں