جب میگھا آتی ہے

Urooj Jafri

جب میگھا آتی ہے

سب کو پتہ چل جاتا ہے

کبھی اس کی ہنسی سے

کبھی اس کی خوشبو سے

کبھی کانوں کے جھمکے

کبھی آنکھ کا کاجل

سب کو بتا دیتے ہیں

میگھا کہیں قریب ہی ہے

اس کی ہنسی کی کھنک آج کل

بڑی گہری ہے

آنچل بھی لہرائے ہیں مگر

کوئی جانتا نہیں اس ساری رونق سے

پرے ایک دل ہے

جو دھڑکنا بند کرنے کو ہے

سانسیں اکثر گھٹنے لگتی ہیں

مگر میگھا جاگتی ہے

پھر سے خود کو سنوارتی ہے!