مجرم ہوں اگر مجھ کو سزا کیوں نہیں دیتے
Danish Ejazمجرم ہوں اگر مجھ کو سزا کیوں نہیں دیتے
اپنا ہوں تو پھر مجھ کو صدا کیوں نہیں دیتے
کچھ اور نہیں شکوہ شکایت ہی کرو تم
اس بجھتی محبت کو ہوا کیوں نہیں دیتے
تم لوٹ بھی جاؤ تو اثر دیر تلک ہو
ملتے ہوئے یہ ہاتھ دبا کیوں نہیں دیتے
پھر دیکھ کے صاحب جی اسی خاص نظر سے
امید کے غنچوں کو کھلا کیوں نہیں دیتے
اک بات ہی کہنی ہے مگر لوگ بہت ہیں
کچھ وقت مجھے ان کے سوا کیوں نہیں دیتے