صدیوں کا کرب لمحوں کے دل میں بسا دیا
Balraj Hayatصدیوں کا کرب لمحوں کے دل میں بسا دیا
پل بھر کی زندگی کو دوامی بنا دیا
دیوار میں وہ چن ہی رہا تھا مجھے مگر
کم بخت ایک سنگ کہیں مسکرا دیا
جب اور کوئی مد مقابل نہیں رہا
میری انا نے مجھ کو مجھی سے لڑا دیا
مجھ سے نہ پوچھ کل کے محقق سے پوچھنا
شعلوں کے لمس نے مجھے کیوں یخ بنا دیا
یادوں کے شہر میں بھی نہ حیرتؔ سکوں ملا
حالات نے مزاج کچھ ایسا بنا دیا