گھن گرج میگھ خوف تنہائی
Ejaz Azmiگھن گرج میگھ خوف تنہائی
بڑھ رہے تھے سبھی دشاؤں سے
ہاتھ پھیلائے
اندھ کار کے بھوت
نیم شب محو خواب سناٹا
ٹمٹماتے دیے کی زخمی لو
لے رہی تھی سنبھل کے انگڑائی
پو پھٹی صبح نو نکھر آئی
ایک پیغام زندگی لے کر
کیف صد جام و سر خوشی لے کر
ساز و مضراب و نغمگی لے کر
مسکرانے لگے گل و گلزار