اک سمندر کے حوالے سارے خط کرتا رہا

Vilas Pandit Musafir

اک سمندر کے حوالے سارے خط کرتا رہا

وہ ہمارے ساتھ اپنے غم غلط کرتا رہا

کیا کسی بدلاؤ سے یہ زندگی بدلی کبھی

کیوں نئی وہ روز اپنی شخصیت کرتا رہا

اس کی تنہائی کا عالم دوستو مت پوچھیے

گھر کی ہر دیوار سے وہ مصلحت کرتا رہا

تھی خبر اب اپنے حق میں کچھ نہیں باقی رہا

جان کر میں کاغذوں پر دستخط کرتا رہا

ہاں اسے شاعر زمانہ کہہ رہا ہے ان دنوں

جو دوانہ اپنے غم کی تربیت کرتا رہا

آج سمجھا ٹھوکروں کے بعد بھی ہے زندگی

کیوں عطا مجھ کو مسافرؔ یہ صفت کرتا رہا