کنکریٹ جنگل میں

Ejaz Azmi

کنکریٹ جنگل میں

کنکریٹ چٹانیں

پتھروں کی بستی میں

زندگی نہیں ملتی

منجمد ہیں سوچیں بھی

آگہی نہیں ملتی

کنکریٹ جنگل میں کنکریٹ جھیلیں ہیں

تارکول کی ندیاں بہہ رہی ہیں ہر جانب

انگنت سیہ پتھر تیرتے ہیں ندیوں میں

ڈوبتے ہیں جھیلوں میں

ڈوب کر ابھرتے ہیں جھیل کے کناروں پر

پتھروں کے گل بوٹے جن سے آنچ آتی ہے

دہاڑ سے درندوں کی روح کانپ جاتی ہے

کچھ نظر نہیں آتا کس قدر اندھیرا ہے

فکر کا اجالا بھی قید ہے حصاروں میں

کنکریٹ جنگل میں ایسے کتنے پتھر ہیں

جن کے سخت چہروں پر وقت کی خراشیں ہیں

جن کے روپ میں کوئی دل کشی نہیں لیکن

پھر بھی ان کے سینے میں ایک درد پلنا ہے

ان سیاہ آنکھوں میں ایک دیپ جلتا ہے