دل کو جس چیز کی حسرت ہے ہمیں جانتے ہیں

Danish Ejaz

دل کو جس چیز کی حسرت ہے ہمیں جانتے ہیں

وہ کوئی چاند سی صورت ہے ہمیں جانتے ہیں

ہمیں کس شخص کی عادت ہے تمہی جانتے ہو

تمہیں کس شخص کی عادت ہے ہمیں جانتے ہیں

تیرا ہنسنا تو قیامت ہے ہمیں ہے معلوم

تیرا رونا بھی مصیبت ہے ہمیں جانتے ہیں

یوں تو دعویٰ ہے محبت کا تمہیں ہم سے مگر

تمہیں جس جس سے محبت ہے ہمیں جانتے ہیں

یوں تو آسان سا رستہ ہے تمہارے گھر کا

تیرے ملنے میں جو محنت ہے ہمیں جانتے ہیں

غم دوراں سے تو بیگانہ ہوئے ہیں دانشؔ

تیرے غم کی جو عنایت ہے ہمیں جانتے ہیں