تم اس زمیں کو زمیں ہی رہنے دو

Balraj Kumar

تم اس زمیں کو زمیں ہی رہنے دو

سب شیاطین کو فرشتوں کو ختم کر دو

زمیں جہنم کا اور جنت کا مظہر اشتراک ہے

یہ کہ اک حسیں امتزاج ہے جس میں پیار و الفت کے

میٹھے چشمے بھی نفرتوں کے ابلتے آتش فشاں بھی

گل بھی ہیں خار بھی گلستاں بھی ہیں ریگزار بھی ہیں

بلندیاں بھی ہیں پستیاں بھی ہیں

دھوپ چھاؤں کا رات دن کا تضاد بھی ہے

یہاں کہ ہیں دل خراش چیخیں بھی رونا دھونا بھی

اور خوشیوں کے چند نغمے بھی

ساری دھرتی کے لوگ ایسے ہی

رکتے چلتے ہیں روتے ہنستے ہیں

آسماں کی کرامتوں کو بھی

اپنے ہونے کے المیے کو بھی جھیلتے ہیں

زمین اک مرحلۂ تخلیق کائناتی گناہ لازم

یا شہر اضداد ہو بھی سکتی ہے کون جانے

مگر یہ سچ ہے کہ دل کشی اور حسن

دھرتی کی فطری ہیئت میں ہی ملے گا

یہ آسمانی کتابیں چھوڑو

زمین جنت نہ بن سکے گی

زمیں جہنم نہ بن سکے گی

زمیں کی اعرافی حیثیت میں ہی اس کی عظمت بھی مختفی ہے

تم اس زمیں کو زمیں ہی رہنے دو