لگتا نہیں ہے دل مرا اجڑے دیار میں
Gham Bijnoriلگتا نہیں ہے دل مرا اجڑے دیار میں
اک عمر کٹ گئی ہے ترے انتظار میں
قائم رہیں خدا را مری سب یہ حسرتیں
دوں گا جگہ انہیں بھی دل داغدار میں
خاروں سے واسطہ ہمیں ہیں خار ہی عزیز
گل ہی تو ہیں جو واضح ہوئے شکل خار میں
پت جھڑ کے موسموں میں ہوئی زندگی تمام
آتی نظر بہار نہیں ہے بہار میں
رک رک کے رکھ رہا ہوں رہ عاشقی میں پاؤں
کانٹے بچھا دئے ہیں تمہیں نے تو پیار میں
دامن بھگو سکے مرے اشکوں میں ڈھل سکے
اتنا لہو کہاں ہے دل داغ دار میں
جس خاک پا کی کھوج میں تو تھک گیا ہے غمؔ
ملنا ہے ایک دن اسی گرد و غبار میں