اپنا رستہ بدل کے دیکھ تو لو

Ibrahim Faiz

اپنا رستہ بدل کے دیکھ تو لو

تم مرے ساتھ چل کے دیکھ تو لو

گھر سے باہر وہی ہے ویرانی

گھر سے باہر نکل کے دیکھ تو لو

آسمانوں میں ہوں گی پروازیں

گرنے والو سنبھل کے دیکھ تو لو

دل کی محفل میں چاند اتریں گے

غم کے شعلے نگل کے دیکھ تو لو

ظلم سہہ کر بھی فیضؔ چپ کیوں ہو

کچھ شرارے اگل کے دیکھ تو لو