تم جو ہو پاس تو کمی کیا ہے

Faheem Amrohvi

تم جو ہو پاس تو کمی کیا ہے

تم نہ ہو تو یہ زندگی کیا ہے

گردش وقت یہ تو بتلا دے

پھول کیا چیز ہے کلی کیا ہے

کوئی لمحہ رکے تو میں پوچھوں

وقت کو ایسی بیکلی کیا ہے

ایک سانسوں کے سلسلے کے سوا

ہم غریبوں کی زندگی کیا ہے

بند کمروں کے باسیوں سے نہ پوچھ

صبح کیا شے ہے روشنی کیا ہے

عقل مبہوت ہو گئی فوراً

جب بھی سوچا کہ زندگی کیا ہے

ان چراغوں تلے اندھیرا ہے

ان چراغوں میں روشنی کیا ہے

عدل بہرا ہے گنگ ہے مظلوم

کوئی کس سے کہے کوئی کیا ہے

ہاں نہیں ہے تو بس وفا ورنہ

میرے احباب میں کمی کیا ہے