کس قدر میلا دل کا درپن ہے
Habeeb Ahmad Anjum Datiaviکس قدر میلا دل کا درپن ہے
آدمی آدمی کا دشمن ہے
کہہ رہی ہے یہ وقت کی رفتار
زندگی زندگی کا مدفن ہے
چاہتے ہیں کہ ایک ہو جائیں
کیا کریں دل ہمارا دشمن ہے
اب صداقت پہ ہے یقین کہاں
جھوٹ کا بولنا بڑا پن ہے
رقص عریانیت کا ہے ہر سو
عہد حاضر کا یہ نیا پن ہے
خیر میرے سفر کی ہو یا رب
ہم سفر آج میرا رہزن ہے
بات جتنی بڑی ہو سچ یہ ہے
اس میں اتنا ہی کھوکھلا پن ہے
ہاتھ نفرت سے کیوں ملاتے ہو
یہ تو زہریلے ناگ کا پھن ہے
تیرگی کا نہیں ہے خوف مجھے
میرے ہاتھوں میں ان کا دامن ہے
وہ خفا کیا ہوئے کہ اے انجمؔ
سونا سونا سا دل کا آنگن ہے