برادروں کا مزاج بدلے یا گھر کا سارا رواج بدلے

Habeeb Saifi

برادروں کا مزاج بدلے یا گھر کا سارا رواج بدلے

رہی یہ خواہش ہمیشہ اپنی جو کل بدلنا ہے آج بدلے

ہمیں تو مطلب ہے روٹیوں سے جو بال بچوں کا پیٹ بھر دے

غرض نہیں ہے کوئی بھی ہم کو یہ تخت بدلے کہ تاج بدلے

ابھی بھی ذہنوں میں سادگی ہے کہ گاؤں چھوڑے زمانہ بیتا

کہ شہر میں بس گئے ہیں لیکن کہاں ہمارے مزاج بدلے

جو وقت کے ساتھ چلتے رہتے یہ بات پیدا نہ ہوتی ہرگز

ہو مستحق تم سزا کے یوں بھی نہ تم نے اپنے رواج بدلے

برے بھلے کا تو خود ہے مالک جو دل میں آئے وہ کر لے سیفیؔ

تجھے بدلنا ہے تو بدل جا نہیں یہ ممکن سماج بدلے